37

گورنر شِپ۔۔ چیئر مین سینیٹ ۔۔یا پھر بلوچستان میں حکومت۔۔۔!!! حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو بڑی آفر، مولانا نے کیا فیصلہ کر لیا؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے گورنرشپ، چیئرمین سینیٹ، بلوچستان حکومت کی آفر کی گئی، مجھے کہا گيا کہ آپ ڈی آئی خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آجائيں، میں نے موجودہ حکومت کی پیشکش مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مجھے پیشکش کی گئی ہے کہ آپ کے لیے قومی اسمبلی سیٹ خالی کردیتے ہيں۔آپ ڈی آئی خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آجائيں۔ اسی طرح مجھے کہا گيا آپ کوبلوچستان حکومت دے دیتے ہیں۔ مجھے کہا گيا صوبے کی گورنرشپ دے دیتے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے چیرمین سینیٹ کے عہدے کی پیشکش ہوئی۔ مجھے یہ ساری آفرز اس دورحکومت میں ہوئی ہیں۔اب جس شخص کو عمران خان چور کہے یہ اس کی بے گناہی کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کو چور کہنے والے خود احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔ہر دور میں نئے نئے طریقوں سے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ کہتا ہے میں سب کو جیلوں میں ڈالوں گا، پھر کہتا ہے یہ نیب کررہا ہے وہ نہیں کررہا۔ وہ اکیلا اپنی بات کررہا ہے، میں تو پورے ٹبر کو کہہ رہا ہوں جاؤ۔ ہمیں استعفا چاہیے یا پھر تین مہینے کے اندر اندر الیکشن کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم تو ان کی روزانہ چول سنتی ہے۔ اب عدالت نے بھی سن لی۔جعلی اکثریت کو ہٹانے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں میں کھلاڑی ہوں مقابلہ کرنا جانتا ہوں۔ مگر اکبر ایس بابر کے مقابلے سے بھاگنے کی کوشش ہور ہی ہے۔ کتنا بزدل کھلاڑی ہے۔ اپنے اوپر آتی ہے تو راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ریٹائرمنٹ سے پہلے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیں ورنہ انہیں ایکسٹینشن دی جائے۔ امید ہے وہ عہدے سے ریٹائرمنٹ سے پہلے اس کا فیصلہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں