65

روحانی مسائل کی وجہ سے دراڑیں پیدا ہونے شروع ۔۔۔!!! وزیر اعظم عمران خان کے 11 معاملوں پر اختلافات پیدا ہوگئے، سہیل وڑائچ نے قوم کو بڑی خبر دے دی

لاہور( نیوز ڈیسک) سینئر صاففی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ عمومی تاثر یہی ہے کہ ایمانداری کے باوجود حکومتی پہیہ چل نہیں رہا، دوسرا نکتہ اعتراض ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ہٹانے پر ہوا، اقوام متحدہ کی تقریر کے بعد واپسی پر جہاز میں بیٹھتے ہی زلف پجاری نے

خان کے کان میں کچھ ایسی پھونک ماری کہ دورے کے دوران ساری غلطیوں کا ذمہ دار ڈکٹر ملیحہ لودھی کو ٹھہرا کر فارغ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ ترین کالم مین سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ ’’ ہے تو میرا موکل، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بے تکلف ہو چکا ہے،میرے الٹے سیدھے خیالات کی وجہ سے وہ مجھے پاگل صحافی کہتا ہے جب کہ اس کی جھوٹی سچی کہانیوں کیو جہ سے اُسے کذاب جن کہتا ہوں، میں نے کذاب جن سے پوچھا کہ اسلام آباد/ راولپنڈی اور اس کے مضافات میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے،میرے موکل کی پانچویں آنکھ پھر سے پھڑکی،اس نے زوردار قہقہہ لگایا اور کہا میں بتا سکتا ہوں کہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ میں نے کہا کہ ہو گا تو سب جھوٹ مگر اسے سننے میں کیا حرج ہے؟کذاب جن نے شاید اس موضوع کی تیاری کر رکھی تھی،اس لیے کہا کہ یہ سب کچھ دس گیارہ وجوہات کی بنا پر ہو رہا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ عمومی تاثر یہی ہے کہ ایمانداری کے باوجود حکومتی پہیہ چل نہیں رہا، دوسرا نکتہ اعتراض ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ہٹانے پر ہوا،اقوام متحدہ کی تقریر کے بعد واپسی پر جہاز میں بیٹھتے ہی زلف پجاری نے خان کے کان میں کچھ ایسی پھونک ماری کہ دورے کے دوران ساری غلطیوں کا ذمہ دار ڈکٹر ملیحہ لودھی کو ٹھہرا کر فارغ کر دیا گیا،اندرونی حلقوں میں اس کا پسند نہیں کیا گیا۔بلکہ کہا گیا کہ ڈاکٹر لودھی کی خدمات کا یہ صلہ مناسب نہیں تھا،تیسرا اختلاف ایک ریٹائرڈ فوجی کی بطور سفیر تقرری پر ہوا، چوتھا معاملہ تہران میں ایک انٹیلی جنس معاہدے پر دستخط کے حوالے سے ہوا،عرب کے شاہی اجلاس میں زلف پجاری کے شریک ہونے پر میزبانوں کو شکوہ ہوا تو اندرونی حلقوں کو بھی اسی نام پر ماتھے میں سلوٹیں نظر آتی ہیں،پانچواں ایشو نواز شریف کو علاج کے لیے باہر بھجوانے اوراس میں تاخیر تھا۔چھٹا اسی حوالے سے ضمانتی بانڈ پر دو اختلافی آرا کا تھا۔ساتواں اور سب سے بڑا معاملہ بہر حال سب سے بڑے صوبے میں دولہا بھائی کی طرف سے ڈلیوری نہ ہونے کا ہے۔آٹھواں اختلاف وزارت اطلاعات کے حوالے سے ہے۔اور یہ معاملہ اندرونی حلقوں نے کئی صحافیوں کو بھی کھ کر بتایا ہے۔نواں مسئلہ روحانی مسائل کی وجہ سے دراڑیں ڈال رہا ہے۔دسواں مسئلہ ہے لچک رویہ اور گیارواں معاملہ سمجھانے کے باوجود نہ سمجھنے کا ہے ‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں