50

پاکستان میں ’ این آر او‘ کی بازگشت۔۔۔!!! حکومت اور شریف خاندان میں کیا معاملات طے پائے؟ وزیر اعظم عمران خان نے سچ سچ بتا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ واضح کردوں نوازشریف کا باہر جانا بالکل این آر او نہیں ہے، حکومتی ترجمان ہر فورم این آراوکے تاثر کی نفی کریں، نوازشریف کی صحت یا علاج پر کوئی سیاست نہیں کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی

زیرصدارت پارٹی اور حکوتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔جس میں سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی ترجمانوں نے استفسار کیا کہ ”کیا نوازشریف کو باہر جانے کیا اجازت دینا این آر او ہے؟“ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ واضح کردوں یہ این آر او بالکل نہیں ہے۔ آپ ہر فورم این آراوکے تاثر کی نفی کریں۔این آراو تب ہوگا جب حکومت نوازشریف کے کیسز کی پیروی نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے علاج کیلئے نکالا جا رہا ہے۔ نوازشریف کی صحت یا علاج پر کوئی سیاست نہیں کریں گے۔ علاج اور صحت کے معاملے کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ نیب کے کہنے پرنوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ نیب کی سفارش پر ہی نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی آزادی اور خودمختاری پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے ترجمانوں کو ہدایت کی کہ آزادی مارچ سے متعلق معاملات مذاکراتی کمیٹی دیکھ رہی ہے۔ مذاکرات کے دوران سخت بیانات دینے سے گریزکریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ نوازشریف کا نام قانونی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ای سی ایل سے نکالا جائے، حکومت پر الزام نہیں آنا چاہیے کہ وہ نوازشریف کا علاج کروانے میں رکاوٹ ہے، طبی اورانسانی بنیاد پر نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کیا جائے۔واضح رہے وزارت داخلہ کو نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست ملی ہے۔ وزارت داخلہ اپنی سفارش مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھے گی۔ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ نیب کو ریفرکیا ہے، شریف فیملی نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے نیب کو بھی درخواست دی ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ درخواست کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات بروقت لیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں