39

ہماری 40 سالہ انوسٹمنٹ ڈوب جائے گی۔۔۔!!! مولانا جب دھرنا شروع کرنے لگے تو ’ اسرائیل‘ نے یہ کسے کہا؟ چونکا دینے والے انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جمعیت کے اہم رہنماء راشد محمود سومرو کا کہنا ہے کہ ہم بہت سارے ٹارگٹ ہم حاصل کر چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے اس دھرنے کی وجہ سے چالیس سال سے پاکستان میں کی گئی انویسٹمنٹ پر پانی پھر چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی

چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ ہم لوگ بہت سارے ٹارگٹ ہم حاصل کر چکے ہیں، اسرائیل کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے اس دھرنے کی وجہ سے چالیس سال سے پاکستان میں کی گئی انویسٹمنٹ پر پانی پھر چکا ہے، جس پر پروگرام کے میزبان حامد میر نے سوال کیا کہ اسرائیل نے کہاں کہا ہے ؟ جس کا جواب دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ اسرائیل کے اخبارات میں اس بات کے حوالے آئے ہیں کہ ہماری چالیس سال کی انویسٹمنٹ پر پانی پھر گیا ہے۔ جس پر حامد میر بھی حیران رہ گئے ۔ دوسری جانب فیض آباد دھرنا کا معاملہ کچھ اور تھا، ہم 8دن سے پرامن بیٹھے ہیں۔مذاکرات کا دروازہ ہم نے بند نہیں کیا۔ حکومت مذاکرات نہیں کرنا چاہتی ہے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مذاکرات بامقصد ہونے چاہییں لیکن حکومتی ٹیم غیر سنجیدہ ہے۔ چودھری پرویزالہٰی باوقار انسان ہیں ماضی میں ایک تعلق رہا ہے۔ چودھری برادران کی کوشش ہے کہ ہم استعفے سے پیچھے ہٹ جائیں۔ہمارا سادہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم استعفا دے دیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کوئی کہتا ہے کہ براہ راست استعفا اچھا نہیں لگتا تو الیکشن کروا لیں۔انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر نئے الیکشن اور استعفے پر بات کرتے ہیں تو ہم حاضر ہیں۔ دھاندلی پر پارلیمانی کمیٹی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ معاملہ لٹک گیا ہے میں نہیں سمجھتا کہ استعفے کے بغیر معاملہ حل ہو، پس پردہ رابطے بھی اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ پس پردہ رابطے کبھی چھپے نہیں رہتے۔ حکومت معاملے کو تصادم کی طرف لے کر جارہی ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ملاقات کی ، جس میں وزیراعظم کورہبرکمیٹی کے فیصلوں اور آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے مئوقف سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر بات استعفے کی ہے تو پھر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن میں استعفا کسی صورت نہیں دوں گا۔انہوں نے کہا کہ انہیں کھلے دل سے مارچ اور دھرنے کی اجازت دی جائے۔ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں، الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں