55

یہ کام کر لیجیے ورنہ ہندوستان پاکستان کے 10 ٹکڑے کر دے گا ۔۔۔ 1974 میں میرے اس انکشاف پر کس نے لبیک کہا اور پاکستان کی بقاء کے لیے چل پڑا تھا ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایک حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آپ کو احساس بھی نہیں ہوا کہ 27اکتوبر ایک محب وطن اور نہایت ایماندار و قابل شخص غلام اسحق خان صاحب کا یوم وفات تھا۔ ان کے جو احسانات اس ملک پر ہیں ان سے کم لوگ ہی واقف ہیں۔ میرا اُن سے نہایت قریبی تعلق 1976سے 2002تک رہا۔

نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔غلام اسحٰق خان صاحب 20جنوری 1915میں بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔ پشاور یونیورسٹی سے B.Sc کرنے کے بعد 1940میں صوبائی سول سروس جوائن کر لی۔ یہاں سے آپ کی ترقی کا راستہ ہموار ہوا اور آپ وفاق میں آگئے۔ آپ PIDCکے سربراہ، اسٹیٹ بینک کے گورنر، واپڈا کے چیئرمین بنے اور مارشل لا لگنے کے بعد عملاً صدرِ مملکت کے فرائض انجام دیئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے صدارت 1993میں چھوڑی تھی اور پشاور منتقل ہو گئے تھے مگر میرا تعلق بہت قریبی تھا کہ 1991سے میں GIK انسٹی ٹیوٹ کا پروجیکٹ ڈائریکٹر تھا اور ہم باقاعدگی سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ درحقیقت آپ کی حکومت سے علیحدگی کے بعد سے وہ خلا آج تک پورا نہیں ہوا جو آپ چھوڑ گئے۔ آپ کے انتقال کو تقریباً 13سال ہو گئے ہیں، مگرآپ جیسا ایماندار، فرض شناس، ماہر شخص ملک کو نہیں ملا۔بیگم، دو بیٹیاں اور میں دسمبر 1974میں چھٹی پر پاکستان آئے تھے۔ میں نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام شروع کریں ورنہ 10سال میں ہندوستان پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ انھوں نےایک صاحب کو یہ کام سونپ دیا۔ دسمبر 1975میں کرسمس کے وقت ہم پھر پاکستان چھٹی پر آئے۔ میں نے جنرل امتیاز کو فون کرکے بتلادیا۔ دراصل وہ برلن میں میرے نہایت عزیز قابل دوست اختر علی کے کزن تھے اور اسی وسیلہ سے میری ان سے بہت اچھی شناسائی تھی۔ انھوں نے بلا کر بھٹو صاحب سے ملاقات کرا دی

اور بھٹو صاحب نے مجھ سے درخواست کی کہ میں دیکھوں کہ کتنا کام ہوا ہے۔ میں نے جب جاکر معائنہ کیا تو علم ہوا کہ کام تو زیرو تھا، مذاق زیادہ تھا۔ میں نے بھٹو صاحب کو بتلادیا وہ بےحد ناراض ہوئے۔ بہرحال بھٹو صاحب نے مجھ سے نہایت مخلصانہ، محب وطن کی طرح درخواست کی کہ میں واپس نہ جائوں اور یہیں ٹھہر کر اس پروجیکٹ پر کام کروں۔ میرے لئے بہت بڑا مسئلہ بن گیا کہ میری اعلیٰ نوکری تھی۔ یورپ، انگلینڈ، امریکہ وغیرہ جانا ہوتا تھا اور میں ہالینڈ کی کامن مارکیٹ میں سائنسی گروپ میں نمائندگی کرتا تھا۔ میں نے کہا میرا تمام لٹریچر ہالینڈ میں ہے اور میں واپس جاکر لے آتا ہوں۔ بھٹو صاحب نہ مانے۔ جب میں نے بیگم سے یہ بات کہی تو وہ بہت پریشان ہوئیں اور کہا کہ تمہارے پاس اعلیٰ نوکری ہے، عزّت ہے اور پروفیسر بننے والے ہو، ہم نہیں ٹھہر سکتے۔ میں نے کہا ہم واپس چلتے ہیں پھر وہ بولیں یہ بتائو اگر ہم ٹھہر جائیں تو کیا تم پاکستان کے لئے کچھ اچھا کام کر سکتے ہو، میں نے ایماناً کہا کہ میرے علاوہ پاکستان کے لئے دنیا کا کوئی شخص یہ کام نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا پھر ہم رُک جاتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے مجھے اٹامک انرجی کمیشن کا ایڈوائزر بنا دیا۔ چھ ماہ جہنم میں گزارے کہ وہاں کچھ کام نہیں ہو سکتا تھا۔ آخر بیگم سے مشورہ کرکے میں نے بھٹو صاحب کو لکھ دیا کہ میں موجودہ ماحول میں کام نہیں کرسکتا اور واپس جارہا ہوں۔ یہ لکھ کر ہم کراچی چلے گئے۔ دوسرے دن ہم کراچی میں تھے کہ

جنرل امتیاز کا فون آیا کہ بھٹو صاحب فوراً ملنا چاہتے ہیں اور انھوں نے ٹکٹ بک کردیا ہے۔ لاہور میں رات 8بجے میں گورنر ہائوس گیا، وہاں بھٹو صاحب، آغا شاہی صاحب اور جنرل امتیاز تھے۔ بھٹو صاحب کے پوچھنے پر میں نے تفصیلاً تمام باتیں بتلادیں، بھٹو صاحب بہت ناراض ہوئے اور مجھ سے کہا کہ آپ واپس نہ جائیں، مجھے دو تین دن دیدیں۔ میں اسلام آباد آگیا۔ کرائے کا گھر ابھی تک ہمارے قبضہ میں تھا میں اس میں ٹھہر گیا۔ دوسرے دن صبح پیغام آیا کہ 5بجے شام آغا شاہی صاحب کے دفتر میں میٹنگ ہے۔ میں وہاں پہنچا تو آغا شاہی صاحب کے علاوہ جناب اے جی این قاضی اور جناب غلام اسحٰق خان صاحب تھے۔ یہ تینوں ملک کے اہم ترین افسران تھے۔ ان کے دریافت کرنے پر میں نے پوری کہانی دوہرا دی تو غلام اسحٰق خان صاحب نے کہا کہ اگر ہم آپ کو کمیشن کا چیئرمین بنادیں پھر تو کام آسان ہو جائیگا۔ میں نے کہا کہ یہ کام ہرگز مفید نہ ہوگا کہ یورپ و امریکہ میں لوگ جانتے ہیں کہ میں کس ٹیکنالوجی پر کام کررہا ہوں وہ فوراً تمام ذرائع بند کردینگے۔ میں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ بہت بڑا اور بہت اہم ہے، آپ اس کو علیحدہ کرکے مجھے سربراہ بنا دیں اور مجھے اختیارات دیدیں تو بہتر رہے گا۔ انھوں نے کہا کل اس پر بات کرینگے۔ دوسرے دن پہنچا تو یہی چار لوگ موجود تھے۔ مجھے بتلایا گیا کہ انھوں نے میرا مشورہ مان لیا ہے اور کل سے میں اس پروجیکٹ کا سربراہ ہونگا۔ ان کے پوچھنے پر میں نے اس کا نام Engineering Research Laboratories رکھدیا۔ میری بات بھٹو صاحب سے کرائی گئی میں نے کہا کہ میں اس انتظام سے مطمئن ہوں مگر مجھے بالکل فری ہینڈ چاہئے۔ دو دن بعد میٹنگ ہوئی، بھٹو صاحب نے ایک ہائی پاور بورڈ بنا دیا جس میں جناب اے جی این قاضی صاحب(چیئرمین)، غلام اسحٰق خان صاحب اور آغا شاہی صاحب ممبران تھے۔ بھٹو صاحب نے ان تینوں سے کہا کہ میں آپ کو اَپنے اختیارات دے رہا ہوں ڈاکٹر خان کو رَتی برابر مشکل پیش نہ آئے۔ کام بہت زیادہ مشکل تھا۔ ہم نے 20,18گھنٹے روز کام کیا۔ بدقسمتی سے ایک سال بعد ہی مارشل لاء لگا دیا گیا اور اس ملک کے محسن بھٹو صاحب کو جھوٹے مقدمہ میں پھانسی دیدی گئی۔ مارشل لاء لگتے ہی غلام اسحٰق خان صاحب بورڈ کے ممبر اور سربراہ بنا دیئے گئے اور اب میرا ان سے بہت ہی قریبی تعلق رہنے لگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنا ایک سنہری دور تھا اور وہ ایک فرشتہ خصلت، نہایت محب وطن، ایماندار شخص تھے۔ میں آج بھی ان سے ملاقاتوں کو اپنا سرمایہ سمجھتا ہوں۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں