44

سندھ اور پنجاب کی سرحد پر مولانا کے قافلے کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، لیکن پھر عمران خان کو ایک مشورہ دیا گیا اور خان نے یوٹرن لے لیا ۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ نے مولانا کے مارچ کے پہلے روز سے اب تک کے حوالے سے ایسے انکشافات کر دیے جن سے آپ ناواقف ہونگے

لاہور (ویب ڈیسک) اس نے مطالبہ مانتے ہوئے اگر واقعی استعفیٰ دے دیا تو ایک نیا بحران پیدا ہو جائے گا۔ پورے 70سال کی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو مطالبہ مان کر یا غلطی تسلیم کر کے مستعفی ہوا ہو اس لئے وہ استعفیٰ دے کر اور بھی بڑا کلغی دار بن جائے گا۔

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے حامی اس کی اصول پسندی پر تالیاں بجائیں گے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کریں گے کہ وہ تو ملک کی قسمت بدلنے والا تھا، مولانا نے اسے یہ موقع نہیں دیا۔ اس کے عقیدت مندکہیں گے معاشی اشاریے بہتری دکھا رہے تھے، صدیوں کی کرپشن ختم ہونے والی تھی مگر اسے چلنے نہیں دیا گیا، یوں ملک نے سنہری موقع ضائع کر دیا۔ یوتھ کہے گی کہ وہ تو نئی اسکیمیں لا رہا تھا، پرانا نظام توڑ رہا تھا مگر مافیا نے اس کو کچھ کرنے نہیں دیا۔ اس کے حامی اوورسیز پاکستانی کہیں گے کہ جاہل لوگ اس کو سمجھ ہی نہیں سکے، یہ ان پڑھ گنوار اپنی بہتری ہی نہیں چاہتے اسی لئے وہ مجبوراًمستعفی ہو گیا۔ انصافی بقراط یہ دلیل بھی لائیں گے کہ دراصل یہ عالمی سازش تھی، اقوام متحدہ میں اس کی تقریر کے بعد یہود و ہنود نے اسے نکلوائے بغیر چین سے کہاں بیٹھنا تھا غرضیکہ اگر اس نے استعفیٰ دے دیا تو وہ اپنے حامیوں کے لئے سیاسی شہید بن جائے گا اور اپوزیشن اس سیاسی شہید کی تارا مسیح ٹھہرے گی۔وہ ملک اور ہیں جہاں ٹرین حادثوں پر وزیرمستعفی ہو جاتے ہیں، وہ شایدکہیں طلسماتی دنیا کی کہانی ہے جہاں مہنگائی پر مظاہرے ہوں تو وزیراعظم گھر چلا جائے، وہ بھی کہیں بہت دور کی بات لگتی ہے کہ لوگ ٹینکوں پر چڑھ کر نظام کو بچا لیں یا ترکی میں جہازوں کی بمباری برداشت کر لیں یہاں تو موہنجو دڑو سے لے کر آج تک کی تاریخ میں ظلم، جبر اور مزاحمت کا چکر ہی چل رہا ہے۔

ضمیر، اخلاقیات اور بھلائی کا درس صرف کتابوں میں بند ہے۔ عملی سیاسی دنیا ہو یا امورِ مملکت، ان میں بے حسی، ظلم اور زبردستی کا چال چلن ہی جاری ہے اور ابھی دور تک اس میں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اس ظلم کے خلاف لڑنے والے احمد خان کھرل ہوں، نواب مظفر خان ہوں، بھٹوز ہوں یا سینکڑوں گم نام لوگ، وہ اپنا سرخ خون دے کر کالی تاریخ کو سنہرا تو بنا جاتے ہیں مگر ابھی تک اسے بدلنے پر قادر نہیں ہوئے۔ ظلم رنگ اور روپ بدلتا رہتا ہے مگر اس کا انداز وہی بے رحمانہ ہے۔ مظلوم البتہ قربانی کے علاوہ کچھ اور نہیں کر پاتے۔ دھرنے اور لانگ مارچ اصولی طور پر غلط ہیں مگر آج کا مسئلہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہزاروں لوگوں کی اشک شوئی کیسے کی جائے کہ وہ وہاں سے اٹھ جائیں کیونکہ ان کو شکست یا ہار نظر آئی تو ہنگامہ آرائی ہو سکتی ہے، جانیں بھی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات واضح ہے کہ اس بڑی تعداد کے مجمع کو طاقت کے بل پر روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اسے زور زبردستی سے اٹھایا جا سکتا ہے۔ علامہ خادم رضوی کے دھرنے کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے اٹھانے کی کوشش کی گئی، ہزیمت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا بالآخر ان سے مجبوراًتحریری معاہدہ کرنا پڑا۔ خبر یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں سندھ اور پنجاب کی سرحد پر مولانا کے قافلے کو روکنے کی منصوبہ بندی کی گئی مگر جب تعداد 30 ہزار تک پہنچ گئی تو یہ طے ہو گیا کہ انہیں روکنا خطرناک ہو گا اور حالات کی جو خرابی چند دن بعد ہوسکتی ہے وہ اسی دن سے شروع ہوسکتی تھی۔ اب بھی صورتحال یہ ہے کہ پنجاب پولیس یا اسلام آباد پولیس کو اگر اس مجمع سے محاذ آرائی کی مجبوری پڑی گئی تو پولیس اسے ہینڈل نہیں کر سکے گی اور اگر رینجرز یا ریگولر دستوں کے ساتھ ہجوم کا آمنا سامنا ہوا تو خون خرابہ ہوگا جس کے انتقامی اثرات خوف ناک ہوں گے۔ لال مسجد میں اسی طرح کا آپریشن ہوا تو خود کش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو تھمنے میں نہیں آتا تھا۔ سیاسی طور پر آزادی مارچ کے ذریعے عمران خان کا جانا عمران خان کے لئے فائدہ مند اور اپوزیشن کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ مولانا اور اپوزیشن کو اپنی شرائط میں جمہوری آزادیوں، الیکشن میں غیرجانبداری، احتساب میں زیادتیوں اور اسمبلیوں کی بہتر کارکردگی کو شامل کرنا چاہئے، ان مطالبات یا شرائط پر اتفاق رائے ہوا تو یہ عمران خان کی شکست اور اپوزیشن کی فتح ہوگی۔خانِ اعظم جو بھی کہتے رہیں حکومت کا اصل امتحان اس کی کارکردگی ہو تی ہے۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں