50

بریکنگ نیوز: فرانس میں مسجد پر دہشت گردانہ حملہ ۔۔۔۔ افسوسناک اطلاعات موصول

پیرس (ویب ڈیسک) فرانس میں مسلح شخص نے مسجد کو آگے لگانے کی کوشش کی کہ اسی دوران 2 معمر افراد وہاں آئے ۔ دہشتگرد نے معمر افراد کو دیکھتے ہی ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ دونوں شدید زخمی ہوگئے۔یہ واقعہ فرانس کے جنوب مغربی شہر بیون میں پیش آیا ۔ جہاں ایک

معمر آدمی نے مسجد میں فائرنگ کرکے 2 نمازیوں کو شدید زخمی کردیا۔فائرنگ کا واقعہ پیش آتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی ۔پولیس نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جس کے بعد حملہ آور کو مسجد کے قریب ہی ایک گھر سے گرفتار کرلیا گیا ۔ حملہ آور کی عمر 84 سال ہے اور وہ سابق فوجی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دہشتگرد جب مسجد پر حملہ کرکے واپس جارہا تھا تو اس نے راستے میں ایک کار کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی۔. یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کی نماز کے وقت کی ایک سفید فام نسل پرست دہشت گرد نے دو مساجد میں فائرنگ کر کے 50مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا اور اس واقعے میں درجنوں مسلمان زخمی بھی ہوئے تھے. شہید ہونے والوں میں 9پاکستانی بھی شامل تھے جن میں سے نعیم رشید شہید نے دہشت گرد کو روکنے کی کوشش میں اپنی جان دے دی تھی. نعیم رشید شہید کی بہادری کو پوری دنیا نے سراہا تھا اور پاکستان حکومت نے یومِ پاکستان کے موقع پر انہیں بہادری کے اعزاز سے بھی نوازا تھا. نعیم رشید شہید کے بیٹے کی بھی اس واقعہ میں شہادت ہو گئی تھی. یادر ہے یورپ میں حالیہ اسلام دشمنی کی لہر2015ء سے بڑھنا شروع ہوئی ۔چنانچہ پہلی باریورپی ملک جمہوریہ چیک کے صدر اورسابق انگلش ڈیفنس لیگ کے رہنما نے یورپ میں اسلام دشمنی میں تقریریں کیں۔بعدازاں جرمنی میں پَگِیڈا (PEgida)نامی اسلام دشمن تحریک چلائی گئی۔یورپی ملک سلواکیہ کیوزیراعظم نے یورپ سے مطالبہ کیا کہ وہ یورپ میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی پرپابندی لگائے۔ اسلام دشمنی میں بڑھ چڑھ کر حصے لینے پر ہنگریہ کے وزیراعظم اربن کو یورپ میں ہیرو قرار دیا گیا۔بعدازاں 2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اسلام دشمنی کا کھل کر اظہار کیااور صدر منتخب ہونے کے بعد باقاعدہ اسلام کو دہشت گردانہ مذہب قراردیا اور بعض اسلامی ملکوں کے امریکا داخلے پر پابندی لگائی۔تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے اب سری لنکا میں مسلم کش فسادات کو بڑھکایا جارہاہے۔چنانچہ اب تک 4 کے قریب مسلمان ان فسادات میں شہید کیے جاچکے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔ 100سے زائد مسلمانوں کے گھر تباہ کیے جاچکے ہیں۔13کے قریب مساجد کو نذرآتش کردیا گیاہے۔کئی مسلمان خوف وہراس کی وجہ سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں