51

شام میں حملہ۔۔۔ ترکی کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا فوجی اتحاد میدان میں آگیا، کارروائی کا اعلان

دمشق( مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی مسلح افواج نے شام کے علاقوں میں باغی کردوں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے تاہم اس فوجی کارروائی کے بعد تک فوج کو بڑی مشکل کا سامنا ہے کیونکہ شامی فوج اور کر باغیوں نے ترکی کی فوج کے خلاف اتحاد بنا لیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج کے دستے اب ترک فوج کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے تل ابیض اور راس الن کے علاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے کرد حکومت کے عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کردوں اور شامی افواج کے درمیان ترک افواج کو روکنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے،اس معاہدے کے تحت شامی فوج ترکی اور شام کی ملحقہ سرحدوں پر تعینات ہوگی جہان پہلے امریکی فوج تعینات تھی۔شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں سخت حریف رہے ہیں اور دونوں کے درمیان اتحاد حیران کن ہے جس کے پیچھے روس کی کاوشیں کار فرما ہیں۔ اس طرح خطے میں ایک نئی صف بندی ہوگئی ہے۔ امریکا جو کردوں کا اتحادی تھا اب بیگانہ ہے جب کہ روس اور شام کردوں سے جا ملے ہیں۔ترکی نے بدھ کے روز سے شام کے اُن سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی شروع کی ہے جہاں کردوں کی حکومت ہے، اس علاقے میں امریکا نے کرد جنگجوؤں کے ساتھ مل داعش کے خلاف طویل جنگ لڑی اور کامیابی حاصل کی۔ داعش جنگجو اب بھی کردوں کی قید میں تاہم ترکی فوج کی کارروائی کے بعد سے درجنوں داعش جنگجو جیل سے فرار ہوگئے ہیں۔شکست خوردہ داعش پھر سے اپنے قدم نہ جمالیں اس خدشے کے پیش نظر عالمی قوتوں نے ترک فوج کی کارروائی کی سخت مخالفت کی ہے۔ ہالینڈ، جرمنی اور فرانس نے ترکی کو اسلحہ فروخت سے انکار کردیا ہے جب کہ امریکا نے بھی ترک فوج سے کارروائی کے دوران داعش قیدیوں کے فرار نہ ہونے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں