24

کُرتار پوری راہداری تو کھول دی مگر۔۔۔۔ عمران خان نے سکھوں کو ایک اور سرپرائز دے دیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) کرتتار پور راہداری منصصوبہ اپنی تکمیل کی جانب گامزن، اس حوالے سے معاہدے کا حتمی مسودہ حکومت نے بھارتی حکومت کے حوالے کر دیا ہے، ہر سکھ ہاتری کے لیے بیس ڈالر کی فیس رکھی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے بھی کئی

مطالبات مان لیے گئے ہیں، ہر یاتری کے لیے انٹری فیسس 20 ڈالر رکھی گئی ہے، اس راہداری پر کوئی بھی گرو نانک کا نام لینے والا آسکتا ہے، 5 ہزار یاتری روزانہ کی بنیاد پر راہداری پر آسکیں گے، گنجائش ہوتو تعداد بڑھائی بھی جاسکتی ہے، 10 دن پہلے ہی بھارت پاکستان وک لسٹ فراہم کرے گا، لسٹ ملنے کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے اس فہرست کی تصدیق کی جائے گی ۔ جو مسودہ تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق سکھ یاتریوں کی آمد سے 4 روز قبل فہرست کو حتمی شکل دی جایا کرے گی، بھارت کی جانب سے بھیجے گئے مسودے کی منظور کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسودے پر دستخط لازمی ہیں ، معاہدے پر دستخط کے حوالے سے تقریب واہگہ بارڈر یا پھر کرتار پور میں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے جو مسودہ دیا گیا ہے اس میں 20 ڈالر سروس فیس کا مطالبہ شامل نہیں تھا، پاکستان نے اس چیز پر بھی غور شروع کر دیا ہے کہ بھارتی مسودے کا جواب کس طرح دیا جائے، پاکستان نے جو مسودہ بھارت حکومت کو ارسال کیا ہے اس میں ویزہ فیس بڑھانے کا بھی مطالبہ شامل ہے، اس ھوالے سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت پہلے مطالبات تسلیم کر کے مکر رہا ہے، 9 اکتوبر کو جیسے ہی پاکستان میں کرتار پور راہداری کا افتتاح کر دیا جائے گا تو یہ پاکستان کا سب سے بڑا گورداوارا بن جاے گا۔ جس کے بعد پاکستان میں سکھوں کی آمد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں