28

جنگ ختم۔۔۔!!! امریکہ نے اپنی فوجیں نکالنے کا اعلان کر دیا

استنبول(نیوز ڈیسک ) امریکہ کا شمالی شام سے ایک ہزار فوجی واپس بلانے کا اعلان، ترک صدر رجب طیب اردگان کا خیر مقدم، اپنے بیان میں ترک صدر کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے شمالی شام کے علاقوں سے ایک ہزار فوجی نکالنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں، توقع ہے کہ کردش فورسز

دوسرے بڑے صوبوں سے بھی پیچھے ہٹ جائے گی، ااگر دوسرے صوبے خالی ہوگئے تو وہاں ترکی کی حیثیت سے داخل نہیں ہونگے۔ دوسری جانب شام کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج کے دستے اب ترک فوج کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے تل ابیض اور راس الن کے علاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے کرد حکومت کے عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کردوں اور شامی افواج کے درمیان ترک افواج کو روکنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے،اس معاہدے کے تحت شامی فوج ترکی اور شام کی ملحقہ سرحدوں پر تعینات ہوگی جہان پہلے امریکی فوج تعینات تھی۔شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں سخت حریف رہے ہیں اور دونوں کے درمیان اتحاد حیران کن ہے جس کے پیچھے روس کی کاوشیں کار فرما ہیں۔ اس طرح خطے میں ایک نئی صف بندی ہوگئی ہے۔ امریکا جو کردوں کا اتحادی تھا اب بیگانہ ہے جب کہ روس اور شام کردوں سے جا ملے ہیں۔ترکی نے بدھ کے روز سے شام کے اُن سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی شروع کی ہے جہاں کردوں کی حکومت ہے، اس علاقے میں امریکا نے کرد جنگجوؤں کے ساتھ مل داعش کے خلاف طویل جنگ لڑی اور کامیابی حاصل کی۔ داعش جنگجو اب بھی کردوں کی قید میں تاہم ترکی فوج کی کارروائی کے بعد سے درجنوں داعش جنگجو جیل سے فرار ہوگئے ہیں۔شکست خوردہ داعش پھر سے اپنے قدم نہ جمالیں اس خدشے کے پیش نظر عالمی قوتوں نے ترک فوج کی کارروائی کی سخت مخالفت کی ہے۔ ہالینڈ، جرمنی اور فرانس نے ترکی کو اسلحہ فروخت سے انکار کردیا ہے جب کہ امریکا نے بھی ترک فوج سے کارروائی کے دوران داعش قیدیوں کے فرار نہ ہونے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔اردوان کا کہناتھا کہ انہیں توقع ہے کہ کردش فورسز دوسرے مانبج جیسے اہم قصبوں سے بھی پیچھے ہٹ جائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ جب مانبج خالی کرا لیا جائے گا تو ہم وہاں ترکی کی حیثیت سے نہیں جائیں گے ، ہمارے عرب بھائی جو حقیقی مالکان ہیں ، قبائل وہاں واپس جائیں گے ، ہمارا مقصد ان کی واپسی اور وہاں ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ۔انہوں نے روس کے مثبت اقدام کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو بظاہر دوسرے اہم قصبے کوبانی پر اس کے آپریشن کی راہ میں کوئی رکاوٹیں نہیں پیدا کررہا ۔اردوان کا کہنا تھا کہ وہاں بہت سی افواہیں چل رہی ہیں لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ روس کے اب تک کے مثبت اقدام کے پیش نظر کوبانی میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں