29

عالمی دنیا میں ہلچل ۔۔۔ عمران خان سے قبل روسی صدر سعودی عرب پہنچ گئے، 12 سال بعد بڑا کام کر دکھایا

ریاض (ویب ڈیسک) تیل کا معاہد اور خطے میں کشیدگی کم کروانے کا معاملہ روسی صدر ولادی پیوٹن 12 سالوں کے بعد سعودی عرب پہنچ گئے، پیوٹن کا دورہ سعودی عرب کریملن کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے اثرو رسوخ کا عکاس ہے، دورے کا مقصد تیل کا معاہدہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق خبررساں ادارے کے مطابق ماسکو کے اوپیک سے معاہدے کی میعاد کچھ عرصے بعد ختم ہو جائے گی، ماسکو کے تہران سے دیرینہ تعلقات اور ریاض سے نئے تعلقات قیام امن میں اہم کردار ادا کرے گا۔سعودی عرب پہنچنے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا استقبال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا۔ اس سے قبل ریاض کے گورنر فیصل بن بندر نے بھی ریاض کے کنگ خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچنے پر ان کا خصوصی طور پر استقبال کیا۔دورے کے دوران شاہ سلمان کے ساتھ ملاقتا کے بعد ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے مزید فروغ کے لیے پر عزم ہیں، مشرقی وسطی کے خطے میں استحکام کے لیے ریاض اور ماسکو کے درمیان تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان دوطرفہ سمجھوتوں کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔بالخصوص توانائی کے شعبے میں تعاون کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔روسی صدر نے کہا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، ماسکو ان حملوں سے متعلق ایسی معلومات ریاض کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جو ان کے پاس ہوں گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان دوطرفہ سمجھوتوں کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔بالخصوص توانائی کے شعبے میں تعاون کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔روسی صدر نے کہا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، ماسکو ان حملوں سے متعلق ایسی معلومات ریاض کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جو ان کے پاس ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں