67

آج کا بڑا سیاسی تہلکہ : مسلم لیگ ن کے 2 درجن سے زائد رہنماؤں نے شریف خاندان کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل گاڑ دیا ، پورے ملک میں ہلچل مچ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئیر صحافی ہارون الرشید نے انکشاف کیا ہے کہ ن لیگ میں بغاوت پھوٹ گئی ہے جس کے باعث مسلم لیگ ن کے 2 درجن سے زائد لوگ وزیرا داخلہ سے رابطے میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سینئیر صحافی ہارون الرشید نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے

قائد نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی میاں نواز شریف کے مابین اختلافات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف جہاں مولانا دھرنا دے رہے ہیں اور نواز شریف اس کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف نواز شریف کے بھائی کو ان سے اختلاف ہے ۔ مسلم لیگ ن کے دو درجن سے زیادہ لوگ اعجاز شاہ کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش میں ہیں ۔اور وہ بارہا وزیراعظم عمران خان کو کہہ چکے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو شامل کرتے ہیں۔ یہی اسی طرح کے لوگ ہیں، پہلے ق لیگ میں سے بھی لوگ شامل ہوئے تھے۔ اس بات کا خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کی دھرنے کی بھرپور حمایتی ہیں۔ یہاں تک کہ ن لیگ کے اندر ایک گروپ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شمولیت کا دو ٹوک اعلان کیا تھا۔ نواز شریف سے ملاقات میں شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں پارٹی کی قیادت کرنے سے معذرت کر لی۔ شہباز شریف نے کہا کہ طبعیت خرابی اور دیگر معاملات کی و جہ سے مارچ نومبر میں چاہتے ہیں،نومبر میں دھرنا ہوا تو پیپلز پارٹی بھی ساتھ دے گی۔جس پر نواز شریف نے کہا کہ آپ کی طبعیت خراب ہے تو کوئی اور قیادت کر لے گا، اسی بارے میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی ہارون الرشید نے کہا ہے کہ نواز شریف نے پیغام بھیجا ہے کہ ہر ایم این اے 200 اور ہر ایم پی اے 100 لوگ مولانا کے مارچ کے لیے لائے، ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ اگر ن لیگ کے ایم این اے اور این پی ایز نواز شریف کی ہدایت پر عمل کریں تو یہ 35 ہزار لوگ بنتے ہیں۔اور مجھے شک ہے کہ وہ نواز شریف کی ہدایت پر عمل کریں گے کیونکہ یہ پارٹی لیڈروں اور ووٹروں کی پارٹی ہے یہ ورکرز کی پارٹی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں