43

تیل کی پیداوار ۔۔۔۔ سعودی عرب نے اچانک ایسا اعلان کر دیا جسکی خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا. سعودی عرب کی وزارتی کونسل کا گزشتہ روز شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر14 ستمبر کو کئے

گئے حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد کا جائزہ لیا گیا. اجلاس میں سعودی عرب کے وزیرِ اطلاعات ترکی بن عبداللہ الشبانہ نے سعودی آرامکو کی بقیق اور الخریص میں واقع تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی‘ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے کو پورے خطے، عالمی سلامتی اورعالمی توانائی کی رسد کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں. عرب نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی عرب اور روس میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخطوں کی توقع کی جا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ 14ستمبر کوسعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل فراہم کرنے والی کمپنی آرمکو کی دو تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے تھے‘آرمکو سعودی عرب کی سرکاری کمپنی ہے جبکہ یہ دنیا کو تیل فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بھی بتائی جاتی ہے. سعودی عرب کے دو الگ الگ مقامات خریص اور بقیق میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی بقیق دارالحکومت ریاض سے 330 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں آرمکو کی خام تیل کی سب سے بڑی تنصیبات بتائی جاتی ہیں، رپورٹس کے مطابق یہاں یومیہ 70لاکھ بیرل تیل پروسیس کیا جاتا ہے. دوسری تیل کی تنصیب خریص جسے نشانہ بنایا گیا ہے یہ سعودی دارالحکومت ریاض سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘آرمکو کے مطابق خریص میں تیل کے 20 ارب بیرل تیل کے ذخائر ہیں۔ ان ذخائر سے یومیہ 10 لاکھ بیرل تیل نکالا جاتا ہے.سعودی تنصیبات پر حملوں کے بع عالمی منڈیوں کو تیل کے بحران بھی سامنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں