94

پاکستانی قید میں رہنے کے بعد رہائی پانے والے بھارتی فوجی کے ساتھ بھارت میں کیا سلوک ہوتا رہا ؟ پول کھول دینے والی خبر

نئی دہلی (ویب ڈیسک) پاکستان کی حراست سے رہا ہونے والا صرف بھارتی فضائیہ کا ونگ کمانڈر ابھی نندن ہی نہیں ہے، 2016ء میں بھی پاکستان نے ایک بھارتی فوجی کو رہا کیا تھا۔ لیکن افسوس کہ اس بھارتی فوجی کو ابھی نندن جیسا مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا اوراس فوجی کے اپنے ہی ساتھی

اہلکاروں نے اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ بھارتی فوجی اہلکار چون کو پاکستان نے 2016ء میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد اسے آزاد کر دیا گیا تھا۔ چون نے لائن آف کنٹرول پار کر لی تھی جس پر اسے پاک فوج نے حراست میں لیا لیکن بعد ازاں چار ماہ کے بعد اسے بھارتی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ پاک فوج سے رہائی پانے اور بھارتی فوج کے حوالے ہونے کے بعد سے ہی چون کو اپنی ہی فوج کے ہاتھوں ہراسگی کا سامنا تھا۔ بھارتی فوجی کا کہنا ہے کہ جب سے میں پاکستان سے آزاد ہو کر آیا ہوں سب لوگوں کی طرف سے مجھے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ جس کے بعد چون نے اپنا استعفیٰ بھارتی رہاست مہاراشٹرا کے علاقہ احمد نگر میں اپنے یونٹ کمانڈر کی خدمت میں پیش کر دیا۔ بھارتی فوجی چون نے کہا کہ میں اپنے ساتھ برتے جانیوالے اس سلوک سے تنگ آ چکا ہوں اور اسی لیے اپنا استعفیٰ پیش کر رہا ہوں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوجی افسران کی جانب سے اہلکاروں کو ہراساں کیا جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ، اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات اور استعفے سامنے آ چکے ہیں ۔ خیال رہے کہ اس سے قبل 27 فروری کو ڈاگ فائٹ کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے تھے جبکہ ایک ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن ایک روز بعد ہی ابھی نندن کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا جس کے بعد بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ویرچاکرا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور بھارتی میڈیا کی جانب سے ابھی نندن کو ہیرو بنا کر پیش کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں