سانحہ کراچی کے بعد راولپنڈی سے بھی افسوسناک خبر۔۔!! بڑے نقصان کی اطلاعات

راولپنڈی (نیوز ڈیسک )راجہ بازار نمک منڈی کارنر پر واقع روئی کی دکانوں میں آتشزدگی، روئی رسی، اور پلاسٹک اشیاء کی دکانیں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں ، اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122. اور سٹی ڈسٹرکٹ فائر بر یگیڈ موقع پر پہنچیں ، آگ بجھانے کے عمل میں 40 سے زائد اہلکار اور فائر بریگیڈ کی

12 گاڑیوں سمیت واٹر ٹینک شامل تھے ۔ حکا م کے مطابق آگ لگنے کی فوری وجوہات معلوم نہ ہوسکی۔ ذرائع کے مطابق سی ڈی اے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ،ریسکیو دیگر فائربریگیڈ کی کاوشوں کے بعد آگ بجھائی گئی ، روئی رسی،کپڑے اور پلاسٹک اشیاء کی دکانوں کو لپیٹ میں لینے والی آگ کے باعث درجنوں دکانیں جل گئیں ۔ تاجروں نے کہاکہ کروڑوں کا نقصان ہوا امدادی اداروں نے بہترین کام کیا،حکومت مالی مدد کرے۔ خیال رہے کہ جمعہ کے روز پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیارے پی کے 8303 کو پیش آنے والے حادثے کے بعد لاشیں نکالنے کا کام مکمل کر لیا گیا جس کے بعد 97 ہلاکتوں کی تصدیق جبکہ 19 میتوں کی شناخت ہو گئی ہے۔طیارے میں موجود دو افراد اس حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں اور اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جائے حادثہ سے 97 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جس کے بعد 25 متاثرہ گھروں کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور رہائشیوں کو مقامی انتظامیہ کی مدد سے دوسرے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔فی الحال میتوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے اور پہلے مرحلے میں بائیو میٹرک کیا جارہا ہے جس کے لیے پاکستان کے قومی رجسٹریشن ادارے نادرا کی ٹیمیں کراچی روانہ کر دی گئی تھیں جو انگلیوں کے نشانات سے لاشوں کی شناخت کریں گی۔اس سے قبل گذشتہ روز سندھ حکومت کی جانب سے لاشوں کی شناخت کے لیے لواحقین کے ڈی این اے نمونوں کے لیے لیب قائم کر دی گئی تھی۔ادھر سول ایوی ایشن حکام کے مطابق طیارے کا بلیک باکس مل چکا ہے جس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے بھیجا جائے گا اور رپورٹ آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔کراچی کی ماڈل کالونی میں واقع جناح گارڈن میں پیش آنے والے اس طیارہ حادثے پر انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے اظہارِ افسوس کیا گیا ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.