پائلٹ سجاد گل کا تعلق کہاں سے تھا اور انہیں جہاز اڑانے کا کتنا تجربہ تھا؟سوگواران میں کس کس کو چھوڑا؟تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ روزحادثے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے کے کپتان سجاد گل انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھے، سجاد گل 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کا تجربہ رکھتےتھے ، جس میں پی آئی اے کے طیارے ایئربس320 پرتقریباً 7ہزار گھنٹے فلائٹ کا تجربہ شامل تھا۔ وہ گزشتہ 5 سال سے اے 320 ایئربس اڑا رہے تھے۔

پائلٹ سجاد گل پاکستان انٹرنیشنل لائن کے انتہائی تجربہ کار کپتان مانےجاتے تھے،پائلٹ سجاد گل کا تعلق لاہور سے تھا، وہ ڈیفنس زیڈ بلاک کے رہائشی تھے۔ مرحوم کیپٹن نے سوگواران میں بیوی اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ روز حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کو چلانے والے پائلٹ کیپٹن سجاد گل کے والد کا بیان سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گھر سے روانہ ہونے سے قبل کیپٹن سجاد گل نے قرآن پاک کی تلاوت تھی۔مجھے پیسے بھی ہے اور کہا کہ بچوں اور میری بیوی کوعیدی دینا۔جس پر میں نے کہا کہ تم نے پانچ بجے آ جانا ہے خود ہی عیدی دے دینا۔تو بیٹے نے کہا کہ نہیں بس آپ انہیں یہ عیدی دے دینا۔بیٹا دوسری بار دوبارہ واپس آیا اور کہا کہ 5000 والدہ کو بھی دے دینا میں واپس آکر آپ کو دوں گا۔میں نے کہا کہ بیٹا یہ کیا بات ہوئی تو اس نے کہا بس آپ میری طرف سے والدہ کو عیدی دے دینا۔بتایا گیا ہے کہ کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے کا کپتان سجاد گل انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھا، سجاد گل کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کا تجربہ تھا، جبکہ اے 320ایئربس چلانے میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔جہاز کے کپتان کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کرنے کا تجربہ ہے، جس میں پی آئی اے کے طیارے ایئربس320 پرتقریباً 7ہزار گھنٹے فلائٹ کی ہے۔ گزشتہ 5 سال سے اے 320 ایئربس جہاز ہی اڑا رہے تھے۔ پائلٹ سجاد گل پاکستان انٹرنیشنل لائن کے انتہائی تجربہ کار کپتان مجھے جاتے تھے، اے 320 ایئربس چلانے میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید طیارہ کپتان کے اس وقت کنٹرول میں نہیں رہا، جب ان کے پاس بالکل بچنے کا مارجن ہی نہیں تھا۔کیونکہ طیارہ جس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے اس کو فنی خرابی اور دونوں انجن فیل ہونے کے بعد بھی گلائیڈ کیا جاسکتا، لیکن شاید طیارہ آبادی کے اس قدر اوپر تھا کہ کپتان کو آبادی سے تھوڑا دور لے جانے کا بھی موقع نہیں ملا۔ پائلٹ سجاد گل کا تعلق لاہور سے تھا، وہ ڈیفنس زیڈ بلاک کے رہائشی تھے۔ مرحوم کیپٹن نے سوگواران میں بیوی اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کیپٹن کے عزیز و اقارب اور اہل علاقہ رہائشگاہ غم سے نڈھال ہوگئے۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ نے طیارے سے متعلق بتایا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.