بات بالآخر وہی نکلی :حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں پہلے سے ہی کیا فنی خرابی تھی؟ ذرائع نے تصدیق کر دی

کراچی (ویب ڈیسک) ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں پہلے سے ہی فنی خرابی تھی، لاہور سے اڑان بھرنے سے آدھا گھنٹہ قبل طیارے کا معائنہ کیا گیا تھا، معائنہ کیے جانے کے باوجود دونوں انجن کا فیل ہو جانا حیران کن ہے۔ تفصیلات کے مطابق

ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کا کراچی میں حادثے کا شکار ہو جانے والا طیارہ پہلے سے ہی فنی خرابی کا شکار تھا۔طیارے کے لاہور سے اڑان بھرنے سے قبل بھی اس کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تھا۔ پی آئی اے کے اینجیئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے اڑان بھرنے سے قبل بھی طیارے میں فنی خرابی کی نشاندہی کی تھی اور اس حوالے سے مینیجمنٹ کو بھی باقاعدہ آگاہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ امر حیران کن ہے کہ معائنے کے دوران طیارے کے دونوں انجن ٹھیک حالت میں تھے، تاہم کراچی میں لینڈ کرنے سے قبل دونوں ہی انجن فیل ہوگئے۔اس حوالے سے اصل حقائق تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکیں گے۔ دوسری جانب سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارے کے لینڈنگ گیئر خراب ہونے کے بعد جب طیارے کو ائیرپورٹ پر لینڈ کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی، تب اس دوران طیارے سے پرندے بھی ٹکرائے۔ واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب آج سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ایئربس 320 میں 107 افراد سوار تھے۔ جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل تھے۔ آخری اطلاعات تک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 39 افراد کی لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ایئربس 320ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کیلئے روانہ ہوئی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے

دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے۔ طیارہ گرنے سے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔جبکہ جس چھت پر طیارہ گرا ہے۔ اس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طیارہ گرنے کے ساتھ ہی طیارے میں آگ لگ گئی۔ جس سے آسمان پر دھوئیں گے بادل بن گئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیارہ گرنے کی تصدیق کردی۔ طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ اور ماڈل کالونی کے متاثرہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ مزید برآں ترجمان پی آئی اے عبداللہ کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے سے متعلق وہ کچھ دیرمیں تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔ عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی، تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.