سال2020ء میں نئی موٹروے بنانے کا منصوبہ۔!!! چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے زبردست خوشخبری سنا دی، قوم کا درینہ خواب پورا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے خوشخبری سنائی ہے کہ سکھرحیدرآباد موٹر وے کی تعمیر کا منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ نے بتایا کہ

سکھر حیدرآباد موٹر وے کی تعمیر کا منصوبہ منظور کرلیا گیا ہے۔منصوبے کی تعمیر رواں سال کے آخر میں شروع ہو جائے گی ۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے پشاور سے کراچی تک کا تمام مشرقی روٹ موٹر وے پرہوگا جبکہ پشاور سے کراچی تک بذریعہ روڈ سفر کا وقت آدھا رہ جائے گا۔ دوسری جانب سکھر حیدرآباد موٹر وے (ایم 6) منصوبے کی اراضی کے حصول کے لئے حکومت نے 2.8 ارب کی رقم فراہم کردی ہے۔ منصوبہ کراچی لاہور موٹر وے کا ہی حصہ ہے۔ ایگزیکٹو نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2019-20 کے تحت فنڈز کے اجراء کا اختیار دیا۔ انہوں نے رواں مالی سال کے دوران اس منصوبے کے لئے 3.5 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے تھے۔ پلاننگ کمیشن کے تازہ ترین اعداد و شمار نے بتایا کہ سکھر حیدرآباد سیکشن کے اراضی کے حصول کے لئے کُل لاگت 51 ارب روپے تھی۔ اس رقم میں سے، متعلقہ حکام نے 30 جون 2019 تک 29.4 ارب روپے خرچ کیی ہیں۔ سکھر حیدرآباد موٹروے پروجیکٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اقدام کا ہی حصہ ہے، اور متعلقہ محکموں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت اسے تعمیر کرنا ہے۔ سکھر سے شروع ہو کر موٹر وے سیکشن خیرپور ، نوشہرہ فیروز ، نواب شاہ ، مٹیاری، ہالا اور جامشورو میں اسٹاپس ہوں گے۔ یہ سیکشن 296 کلومیٹر لمبا ہوگا۔ اور حیدرآباد میں ختم ہوگا. اس پورے منصوبے کی کُل لاگت 204.38 بلین روپے لگائی گئی ہے ، اور حکومت کو

توقع ہے کہ یہ منصوبہ 33 ماہ کی مدت میں مکمل ہوجائے گا۔ اس کی تکمیل کے بعد ، پشاور اور لاہور سے آنے والے مسافر کراچی سے کنٹرول شدہ موٹر وے لنک تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ جبکہ حیدرآباد کراچی موٹروے پہلے ہی تعمیرشدہ ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.