اب پیسہ سڑکوں اور پلوں پر نہیں بلکہ تعلیم پرخرچ ہو گا۔۔۔ عمران خان نے ہائر ایجوکیشن کیلئے خزانے کے منہ کھول دئیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے20 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دے دیا،تفصیلات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن بجٹ میں کٹوتی سے متعلق معاملے پر وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے وزیراعظم کو مسائل سے

آگاہ کرتے ہوئے بجٹ کٹوتی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر 21 ارب سے زائد فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی، جس پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 20 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیراعظم کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت ہرطالب علم کو لیپ ٹاپ فراہمی کا بھی اعلان کیا گیا ۔مالی سال 2019-2020 میں ایچ ای سی کیلئے 69 ارب روپے مختص کیے گئے تھے،20 ارب کےاس فنڈ کے بعد ایچ ای سی کا مجموعی بجٹ 80 ارب تک پہنچ جائے گا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبرکے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کا بڑا فیصلہ ، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز (سابقہ ڈی ایم جی)کا کئی دہائیوں پر مشتمل غلبہ ختم کرنے کیلئے بڑا اقدام اٹھا لیا ۔ بااثر گروپ کی چھ سو آسامیاں ختم کر کے صوبائی سروسز اور تکنیکی ماہرین کو وفاقی سطح پر دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار انصار عباسی نے دی نیوز اپنی رپورٹ میں تہلکہ انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے سابقہ ڈی ایم جی گروپ کا کئی دہائیوں پر مشتمل غلبہ ختم کرنے کیلئے 600 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان آسامیوں کوصوبائی سروسز اور ٹیکنیکل ماہرین کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سینئر سرکاری افسر نے بتایا ہے کہ سول سروس میں کی جانے والی تازہ ترین اصلاحات کی منظوری وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے بعد دی گئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں سول سروسز میں سنیارٹی اور سفارش کی بجائے کارکردگی اور اہلیت کی بنیاد پر

عہدے سب کیلئے کھل جائیں گے۔معروف صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی سطح پر پی اے ایس گروپ سے 200؍ جبکہ صوبائی حصے میں سے 400؍ اسامیاں کیڈر سے خارج کی گئی ہیں۔ منظور کردہ اصلاحات کے مطابق پی اے ایس کیڈر میں اسامیاں 1900؍ ہیں جن میں 600؍ کی کمی کرکے انہیں 1300؍ کی سطح پر لایا جائے گا۔ان اصلاحات کے نتیجے میں ہرفن مولا کی بجائے اسپیشلائزیشن اور پروفیشنل ازم کا کلچر فروغ پائے گا۔مزید یہ کہ ان اصلاحات کےنتیجے میں بیوروکریسی سے پرانا گند صاف کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ نئی اصلاحات کے نتیجے میں حکومت کارکردگی نہ دکھانے والے اور غیر موثر سرکاری ملازمین کو قبل از وقت یعنی صرف 20؍ سال کی سروس کے بعد ریٹائر کر سکے گی۔ماضی میں 60 سال کی ملازمت کی جاب سیکیورٹی کی وجہ سے مسابقتی عمل کی حوصلہ شکنی ہوتی آرہی ہے لیکن سول سرونٹس کے قوانین میں کی گئی نئی اصلاحات کے تحت 20 سال مسلسل ملازمت کرنے والے سول سرونٹس کے ملازمین کی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے گی۔ حس کے بعد سینئر سیکرٹریز اور ایف پی ایس سی کے چیئرمین پرمشتمل کارکردگی جائزہ بورڈ فیصلہ کرے گا کہ سول سرونٹ کی ملازمت برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔دستاویز میں لکھا ہے کہ یہ کام پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں صلاحیت میں اضافے اور مقابلے کا ماحول پیدا ہوگا اور نا اہل افسر کا صفایا ہو جائے گا۔ توقع ہے کہ پی اے ایس اور پی ایس گروپ کے افسران اس کی مزاحمت کریں گے اور حکومت کے خلاف نیا محاذ کھلنے کی توقع ہے۔دستاویزات کے مطابق مردوں کوپہلے 5 سال اور خواتین کو 3 سال دوسرے صوبوں میں سروس کرنا ہو گی جس میں سول سرونٹ ایک صوبے میں 10 برس سے زیادہ قیام کرے گا اسے ترقی نہیں دی جائے گی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.