امت مسلمہ کی سرداری بھی انجوائے کرے اور کسی کے نفع نقصان کی پروا بھی نہ کرے ، یہ تو زیادتی ہے ۔۔۔۔۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت پر سعودی عرب کا پراسرار کردار ۔۔۔ چند حقائق ملاحظہ کریں

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سعودی عرب ہمارے لیے باعث احترام ہے اور باعثِ تکریم بھی اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہاں ہمارے مقدس ترین مقامات ہیں۔ وہ ”حرمین شریفین‘‘ کے رکھوالے اور خدمت گار ہیں اور یہ ایسا اعزاز ہے

جو ان کو باعث عزت و شرف بھی بناتا ہے اور عالم اسلام کا مرکزہ اور سردار بھی‘ لیکن جتنی بڑی سرداری ہوتی ہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اب سرداری تو انجوائے کی جائے اور ذمہ داری نام کی کوئی چیز بھی آپ اپنے کندھوں پرنہ ڈالیں تو اس سے بڑی خیانت اورکیا ہوسکتی ہے؟جب اس موضوع پر بات کریں کبھی تقدس آڑے آجاتا ہے اور کبھی اقتصادی مسائل۔ کبھی زرمبادلہ کے ذخائر میں پڑے ہوئے ادھارکے ڈالر رکاوٹ بن جاتے ہیں اور کبھی ادھار پرلیا ہوا تیل۔ کبھی چھبیس لاکھ ورکر یاد آ جاتے ہیں اور کبھی سعودی عرب سے بھیجے گئے سالانہ چارارب ڈالرز سے زیادہ زرمبادلہ کا خیال آجاتا ہے۔ ان احسانات تلے دباکر جوتے بھی مارے جاتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیا جاتا۔ لیکن جناب علامہ اقبال اسی ضمن میں فرما گئے ہیں ع۔۔۔غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں۔۔ویسے آپ کاکیا خیال ہے شاہ محمود قریشی نے یہ بیان بھولپن میں دیا ہے؟ کیا انہوں نے یہ بات غلطی سے کی ہے؟ کیا اسے آپ غیرذمہ دارانہ بیان کہہ سکتے ہیں؟ کیا یہ Slip of the tongue تھی؟ ہرگز ہرگز نہیں! پانچ نسلوں سے مخدومی و گدی نشینی پر فائزشاہ محمود قریشی بغیر کسی ہلاشیری کے کوئی انقلابی بیان دے ہی نہیں سکتے اور اگر اب دیا ہے تو ان کی پشت پرکھڑے ہوئے سائیں تگڑے ہیں۔ ان کا ماضی دیکھوں تو یہ بیان جو میرے لیے بڑا خوش کن ہے مجذوب کی بڑ لگتا ہے۔ اب دیکھیں وہ اسے نبھاتے ہیں یا ایک پنجابی لفظ کے مطابق ”دُڑک‘‘ لگاتے ہیں۔ اگر وہ کھڑے رہے، میرا مطلب ہے اگر ریاست اس بیان پر کھڑی رہی تو باعزت تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا، بصورت دیگر سو جوتے بھی کھائیں گے اور سو پیاز بھی۔ اب دیکھتے ہیں ہمارے ساتھ کیا بنتا ہے؟

20

اپنا تبصرہ بھیجیں