اسرائیل امارات معاہدہ شاندار اقدام : پاکستان بھی جلد از جلد خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں قدم رکھ دے اور ۔۔۔۔۔ نامور پاکستانی خاتون صحافی کا خصوصی تبصرہ

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار زاہدہ حنا اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عرب ، اسرائیل تعلقات میں کشیدگی کے مذہبی، نسلی، سیاسی اور معاشی اسباب ہیں۔ ان کے درمیان کشیدگی کی تاریخ بہت قدیم ہے لیکن اب متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر

لانے کا فیصلہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ یو اے ای آبادی کے لحاظ سے ایک بہت چھوٹا ملک ہے لیکن اس کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا فیصلہ ہراعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے جس پر جذباتی نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل حقائق کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔-1 آج کی دنیا19 ویں صدی کی دنیا سے بالکل الگ ہے۔ موجودہ صدی میں لڑائیوں کے ذریعے ملکوں پر نہ قبضہ کیا جاسکتا ہے اور ان کو توڑناممکن نہیں ہے۔ موجودہ دنیا ایک معاشی اکائی بنتی جارہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام یا فوجی کشیدگی سے ہر ملک کا نقصان ہوگا لہٰذا لڑائی اور تصادم پر مبنی پالیسیوں کی کامیابی کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے۔-2 اسرائیل کی آبادی تقریباً 90 لاکھ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا صرف 0.11 فیصد ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ لیں کہ کراچی کی آبادی اسرائیل سے تین گنا زیادہ ہے۔ اسرائیل نے یہ سمجھ لیا تھا کہ معاشی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، سائنس اور تحقیق کے ذریعے ہی اس کی بقا ممکن ہے۔ اس وقت اسرائیل کی کل داخلی پیداوار 387 ارب ڈالر یعنی پاکستان سے 100 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ اس کی برآمدات 60 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اوراس کا شمار ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ انسانی ترقی کے حوالے سے بھی وہ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔-3 عرب اور مسلمانوں کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 80 کروڑ ہے اور عالمی آبادی میں اس کا تناسب 24 فیصد ہے۔ دنیا کے 50 سے زیادہ مسلمانوں کی کل یعنی مشترکہ جی ڈی پی فرانس کی جی ڈی پی سے کم ہے جب کہ امریکا کی صرف ایک ریاست، کیلی فورنیا کی جی ڈی پی فرانس سے زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمان ملکوں کے حکمرانوں نے اپنے اپنے ملکوں کے لیے کتنے ’’کارہائے نمایاں‘‘ سرانجام دیے ہیں۔متحدہ عرب امارات کا اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ جب سے تیل کی سیاست کا خاتمہ ہوا ہے اور بے پناہ دولت کمانے کا ذریعہ ختم ہورہا ہے اس کے بعد سے عرب ملک بھی اپنا انداز فکر تبدیل کرتے ہوئے حقیقت کی دنیا میں واپس آ رہے ہیں۔ ہم بھی خوابوں، نعروں اور ترانوں کی دنیا سے جتنا جلد باہر نکل آئیں اتنا ہی ہمارے ملک اور عوام کے لیے بہتر ہوگا۔

19

اپنا تبصرہ بھیجیں