عورت کو ا گر ہمبستری کے لیے راضی کر ناہو تواسکی ایک چیز کو ہاتھ لگاؤ

" >

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کفن بھی کیا چیز ہے جس نے بنایا اس نے بیچ دیا جس نے خریدا اس نے استعمال ہی نہیں کیا اور جس نے استعال کیا اس سے معلوم ہی نہیں ۔ کاش کہ لوگ سمجھ سکتے کہ رشتے بنانا اصل بات نہیں بلکہ اصل بات تو رشتوں کو

نبھانا ہوتا ہے ۔ کسی وجہ سے بھی گناہ مت کرو۔ کیونکہ وجہ ختم ہو جانے کی مگر گناہ نہیں، ہر نیکی کے لیے تکلیف اٹھا لیا کرو کیونکہ تکلیف ختم ہو جائے گی لیکن نیکی نہیں ۔ زمانے کا شکوہ نہ کرو بلکہ خود کوبدلو کیوں کہ پاؤں کو گندگی سے بچانے کا طریقہ جوتا پہننا ہے نہ کہ سارے شہر میں قالین بچھانا ۔ عورت کے روتے روتے اچانک مسکرا دینے کے منظر سے بڑھ کر حسین منظر اور کوئی نہیں جو ظلم کے ذریعے عزت چاہتا ہے اسے اللہ انصاف کے ذریعے ذلیل کرتا ہے ۔ دل چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی ٹوٹا کر تا ہے بڑی بڑی باتوں پر تو بس تعلق ٹوٹا کرتے ہیں۔ محبت اگر طوائف سے بھی ہو جائے تو یہ نہیں سوچتے کہ وہ کتنے بستروں کی زیت بن چکی ہے ۔ محبت کس طرح کی جاتی ہیں یہ صرف عورت ہی جانتی ہے اپنالو یا چھوڑ دو مگر کسی کو استعمال مت کرو ۔ دو انسانوں کارشتہ ہمیشہ کسی تیسرے کی وجہ سے ختم ہو تا ہےلوگ اس کاغذ کو تو سنبھال لیتے ہیں جس پر اللہ لکھا ہولیکن اس دل کو توڑ دیتے ہیں جس میں اللہ رہتا ہے عمر بھر بوجھ اٹھایا ایک کیل نے اور لوگ تعریف تصویر کی کرتے رہے ۔ بارات میں دولہا پیچو اور دنیا آگے چلتی ہے اور میت میں جنازہ آگے اور دنیا پیچھے چلتی ہے یعنی دنیا خوشی میں آگے اور غم میں پیچھے ہو جاتی ہیں ۔سچائی بھارے معاشرے میں ایک طوائف کی طرح ہوتی ہے جس کے طلبگار تو سارے ہیں مگر طرف دار کوئی نہیں ۔عورت کو ہمبستری کے لیے راضی کر نا ہو تو اسکی ایک چیز یعنی چھاتی کو ہاتھ لگاؤ ۔ عورت خود یی راضی ہو جائے گی ۔

76

اپنا تبصرہ بھیجیں